نئی دہلی ، 27 مارچ (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے شاردا چٹ فنڈ گھوٹالہ معاملے میں کولکاتا کے سابق پولیس کمشنر راجیو کمار سے حال ہی میں ہوئی پوچھ گچھ سے متعلق پیش رفت رپورٹ میں سی بی آئی کی طرف سے کئے گئے خلاصوں کو منگل کو انتہائی سنگین قرار دیا گیا۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس دیپک گپتا اور جسٹس سنجیو کھنہ کی بنچ نے کہا کہ اگر کچھ بہت سنگین حقائق کی معلومات اسے دی گئی ہے تو وہ اس کے تئیں اپنی آنکھیں نہیں بندہو سکتی ہے۔بنچ نے اس کے ساتھ ہی تفتیشی بیورو کو ہدایت دی کہ راجیو کمار کے خلاف مناسب کارروائی کے لئے وہ درخواست دائر کرے۔بنچ نے تفتیشی بیورو کو اس سلسلے میں درخواست دائر کرنے کے لئے دس دن کا وقت دیا اور کہا کہ کمار اور دیگر لوگ اس کے بعد سات دن کے اندر اندر اپنا جواب داخل کر سکتے ہیں۔پہلے راجیو کمار ہی اس چٹ فنڈ گھوٹالے کی جانچ کرنے والے خصوصی تفتیشی ٹیم کے سربراہ تھے۔عدالت عظمی نے کہا کہ چونکہ سی بی آئی کی رپورٹ سیل بند لفافے میں دائر کی گئی ہے، اس لئے وہ دوسری طرف سنے بغیر اس وقت کوئی حکم جاری نہیں کر سکتی۔سپریم کورٹ شاردا چٹ فنڈ گھوٹالے کی جانچ میں تعاون نہ کرنے اور مبینہ طور پر ثبوت کو تباہ کرنے کے معاملے میں مغربی بنگال کے پولیس ڈائریکٹر جنرل اور کولکاتا کے اس وقت کے پولیس کمشنر سمیت کئی سینئر افسران کے خلاف سی بی آئی کی توہین عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔بتا دیں کہ اس سال فروری کے پہلے ہفتے میں پوچھ گچھ کے لئے سی بی آئی کی ٹیم راجیو کمار کے گھر پہنچی تو انہیں گرفتار کر لیا گیا تھا۔اس معاملے کو لے کر ریاست کی وزیر اعلی ممتا بنرجی مرکزی حکومت کے خلاف دھرنے پر بیٹھ گئی تھی۔سی بی آئی کے سپریم کورٹ کا رخ کرنے کے بعد کورٹ نے راجیو کمار کو شالنگ سی بی آئی دفتر میں پیش ہونے کو کہا تھا،اگرچہ کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ راجیو کمار کو گرفتار نہ کیا جائے۔